27 ستمبر 2013 - 20:30
شام کے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنیکا مطالبہ کرتے ہیں، نواز شریف

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا، جموں اور کشمیر کا مسئلہ 1948ء سے اقوام متحدہ میں حل طلب ہے، کشمیریوں کی آواز سنی جانی چاہیے.

ابنا: وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ڈرون طیاروں کا استعمال پاکستان کی خود مختاری کے خلاف ہے، ڈرون طیارے پاکستان سے شدت پسندی کے خاتمے میں رکاوٹ ہیں، امریکہ سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے، پاکستان ایک ذمے دار ایٹمی ملک ہے، اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے معاملے کو دیکھنا چاہیے، کشمیریوں کا حق خود رائے دہی کچلا نہیں جاسکتا، بھارت کے ساتھ بامقصد اور ٹھوس مذاکرات کے لیے تیار ہیں، بھارتی وزیراعظم سے نیویارک میں ملاقات کا متمنی ہوں، افغان عوام کو اپنی قسمت خود بنانے کا حق حاصل ہے، صدر کرزئی کو افغانستان کے مسائل میں مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے ملک میں جوابی ردعمل پیدا کرتے ہیں، دہشت گردوں کا کوئی مذہب، سرحد اور ذات نہیں ہوتی، دہشت گردی پھیلانے والے اسلام کے دشمن ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ جنرل اسمبلی کا کردار حالیہ برسوں میں مضبوط ہوا ہے، اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا، جموں اور کشمیر کا مسئلہ 1948ء سے اقوام متحدہ میں حل طلب ہے، کشمیریوں کی آواز سنی جانی چاہیے، اقوام متحدہ جموں اور کشمیر کے مسئلے پر توجہ جاری رکھے، کشمیریوں کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

پاک بھارت تعلقات کے حوالے نواز شریف نے کہا کہ منموہن سنگھ کو تمام حل طلب معاملات طے کرنیکی پیشکش کی، وزیراعظم بننے کے بعد مجھے بھارتی وزیراعظم کی جانب سے خیرسگالی کا پیغام ملا، پرامن اور معاشی استحکام والے خطے کے لیے پرعزم ہوں، بھارت کے ساتھ تعلقات 1999ء کے معاہدہ لاہور کے تحت قائم کرنا چاہتے ہیں، بھارتی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات ایک نئی شروعات ہوگی۔ ہم ایک مستحکم پرامن اور مضبوط افغانستان دیکھنا چاہتے ہیں، افغانستان میں کوئی ہمارا پسندیدہ نہیں ہے، ہم نے کئی عشروں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے، افغانستان کے ساتھ مل کر تجارت اور توانائی کے معاملات میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ ایسی فلسطینی ریاست کے حامی ہیں جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو، ہمیں امید ہے کہ فلسطین کو 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ریاست بنایا جائے گا۔ نواز شریف نے مطالبہ کیا کہ شام میں مذاکرات اور مفاہمتی عمل فوری شروع کیا جائے، شام میں مزید جنگ قتل عام کو فروغ دے گی، شام کے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہیں، پاکستان کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا شدید مخالف ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتا ہے، پاکستان ایک ذمے دار ایٹمی ملک اور جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی کسی دوڑ میں شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا سے ایڈ نہیں ٹریڈ چاہتا ہے، ہم ایک نئے پاکستان کی بنیاد مضبوط معیشت سے رکھنا چاہتے ہیں، پشاور میں چرچ پر حملے پر افسوس ہے، پشاور حملے سے شدت پسندوں کیخلاف سختی سے نمٹنے کیلئے عزم مضبوط ہوا ہے۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آزاد عدلیہ، جمہوریت اور سول سوسائٹی موجود ہے اور اقلیتوں کو پاکستان میں مکمل حقوق حاصل ہیں، امن اور سلامتی کا قیام میری حکومت کا نصب العین ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اسلام امن اور بھائی چارے کا مذہب ہے، دُنیا بھر میں مسلم برادریوں اور ان کی مقدس ہستیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

.......

/169